ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بابا بڈھن گری میں نئے رسموں کی اجازت نہ دی جائے: کومو سوہاردا ویدیکے

بابا بڈھن گری میں نئے رسموں کی اجازت نہ دی جائے: کومو سوہاردا ویدیکے

Fri, 26 Apr 2019 23:40:40    S.O. News Service

بنگلورو،26/اپریل(ایس او نیوز)کرناٹکا کومو سوہاردا ویدیکے کے علاوہ دلت اور ترقی پسند تنظیموں نے چکمگلور میں اڈیشنل ڈپٹی کمشنر کمار سے ملاقات کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بابا بڈھن گری کی درگاہ میں سنگھ پریوار کے ذریعے نئے نئے رسومات ادا کئے جارہے ہیں، جس پر فوری روک لگائی جائے اور نئے رسموں پر پابندی عائد کردی جائے۔ اس موقع پر اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ویدیکے کے ریاستی سکریٹری غوث محی الدین نے بتایاکہ ان کے ذریعے بابا بڈھن گری تنازعے کی یکسوئی کے لئے گزشتہ چالیس سالوں سے قانونی جنگ جاری ہے۔ جس کی بنیاد پر 1989میں یہ فیصلہ لیا گیاکہ 1975 سے قبل یہاں جن رسموں پر عمل کیا جاتا تھا اس کا جائزہ لیا جائے، جس کی بنیاد پر درگاہ کے سجادہ نشین نے یہ تصدیق کی تھی کہ صوفی رسموں کے مطابق عرس کے علاوہ یہاں پر کسی بھی رسم کا رواج نہیں تھا۔ اس کے باوجود سنگھ پریوار کے ذریعے دتہ جینتی، دتہ مالے، شوبھا یاترے، انوسویا جنتی جیسے نئے نئے رسموں کے ذریعے ہم آہنگی کے ماحول کو مکدر کرنے کے علاوہ بابا بڈھن کے زعفرانی کرن کرنے کی کوشش کررہاہے۔ جس سے یہاں کے اقلیتوں میں خوف کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ ضلع میں کئی ہم خیال اور ترقی پسند تنظیموں کے ذریعے ان پروگراموں کی مخالفت کی جارہی ہے۔ بابا بڈھن گری کے سجادہ نشین شاہ قادری نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے کہ یہاں کی مکمل ذمہ داری انہیں سونپی جائے۔ اس کے باوجود اب سنگھ پریوار کے ذریعے ہونیمے پوجا نامی نئی رسم کی تیاری کی جارہی ہے۔ اور یہاں پر پوجا پاٹ کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سنگھ پریوار کے ذریعے اقلیتوں اور افسروں کی توہین کا سلسلہ جاری ہے، جس سے ضلع میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ اس لئے وہ مطالبہ کررہے ہیں کہ ہم آہنگی کی بحالی کے لئے سنگھ پریوار کی نئی نئی رسموں کو ہرگزاجازت نہ دی جائے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی درگاہ پر حاضری دینے والے مختلف مذاہب کے معتقدین میں پائے جانے والے احساس عدم تحفظ کو دور کیا جائے۔ اس موقع پر یوسف حاجی، رگھو، حسن ابا، منا، گنیش، ایشورپا اور وسنت کے علاوہ دیگر موجود تھے۔


Share: